|
اميرسر لشكر محمد سليمي نے اسلامي جمہوريہ ايران پرامريكي حملوں كي دھمكيوں كے بارے ميں مہر كے نمائندے سے گفتگو كرتے ہوے كہا : ہم ہر قسم كي دھمكي كو جديت كے ساتھ ديكھتے ہيں جبكہ اسلامي جمہوري ايران كے خلاف يہ دھمكياں نئ نہيں ہيں يہ لوگ تو شروع سے ہي اس قسم كي دھمكياں ديتے رہے ہيں ـ انہوں نے مزيد كہا : مسلح افواج كا سفارتكاري اور مزاكرات سے كوئي مطلب نہيں ہے انہيں تو ہميشہ كل سے زيادہ آج تيار رہنا چاہيے اسلے ہم دھمكيوں كو جدي تصور كرتے ہيں اگر چہ ايسا عملي نا بھي ہو ہم پھر بھي تيارہيں ـ فرماندہ كل ارتش اسلامي جمہوري ايران نے كہا : ہم ہر كسي حملے كا دفاع كرنے كيلے تيار ہيں ـ سليمي نے فوج كي آمادگي كي طرف اشارہ كرتے ہوے كہا : اسلامي جمہوري ايران كي فوج ايسے شرائط ميں ہے كہ جو كوئي اس سرزمين پر تجاوز كرنے كا ارادہ كرے وہ اپنے مقاصد حاصل نہيں كرسكے گا اور اسے ايسا كرنا بہت مہنگا پڑے گا ـ انہوں نے افواج كے مختلف بخشوں كا معائنہ كرنے كي طرف اشارہ كرتے ہوے مزيد كہا : مسلح افواج سو فيصد تيار ہيں، ميں نہيں سمجھتا كوئي ہمارے ملك پر حملہ كرنے كي جرئت كرسكے گا ـ فرماندہ ارتش اسلامي جمہوري ايران نے كہا : ہم كبھي بھي جنگ كے خواہاں نہيں رہے ہيں اور ہميشہ اس موضوع سے اجتناب كرتے رہے ہيں البتہ علاقے كے استقلال اور ثبات كيلے ہميشہ كوشش كرتے رہيں گے ـ سليمي نے واضح كيا : اگر دشمن نے جنگ كي بنگل بجائي ہم بھي دفاع كي بھگل بجائيں گے ( عبدالحسين موسوي) |
آپ کا تبصرہ